نظر بد کا علاج محدث

نظر بد کا علاج محدث
نظر بد کا علاج محدث

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا انسان کو نظر لگ جاتی ہے اس کا علاج کیا ہے؟ کیا نظر سے بچنا توکل کے منافی ہے؟

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نظر لگنا برحق ہے اور یہ شرعی اور حسی طور پر ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

نظر بد کا علاج محدث

﴿وَإِن يَكادُ الَّذينَ كَفَروا لَيُزلِقونَكَ بِأَبصـرِهِم…﴿٥١﴾… سورة القلم

’’اور کافر (جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو) یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی (بری) نگاہوں سے پھسلا دیں گے۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ  وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدْرَ سَقَبَتُْ الْعَيْنُ، وَاِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»(سنن ابی داود، الطب، باب فی الطیرة، حدیث: ۳۹۲۵ وجامع الترمذی، الاطعمة، باب ماجاء فی الاکل مع المجزوم، حدیث: ۱۸۱۷)

’’نظر لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دیا کرو۔‘‘

اسی طرح امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ  نے روایت کیا ہے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ  سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ  کے پاس سے گزرے، جب کہ وہ غسل کر رہے تھے اتفاق سے انہوں نے سہل بن حنیف ؓ دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ: ’’میں نے آج تک کسی کنواری دو شیزہ کی بھی اس طرح کی جلد نہیں دیکھی۔‘‘  یہ کہنا تھا کہ سہل بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا اور عرض کیا گیا: سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: (مَنْ تَتَّہِمُوْنَ ٖ) ’’تم ان کے بارے میں کس کو مورد الزام ٹھہراتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے عرض کیا: عامر بن ربیعہ کو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَکَة»(سنن ابن ماجه، الطب، باب العین، ح:۳۵۰۹ وسنن الکبری للنسائی: ۴/ ۳۸۱)

’’تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرنے  کے درپے کیوں ہے؟ تم میں سے کوئی جب اپنے بھائی کی کوئی خوش کن بات دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔‘‘

 پھر آپﷺ نے پانی منگوایا اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، دونوں گھٹنوں اور ازار کے اندر کے حصے کو دھویا اور پھر آپ نے حکم دیا کہ وہ پانی نظر لگے ہوئے شخص پر بہا دیں۔‘‘

ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: (وَاَمَرَہُ اَنْ یَّکْفَأَ الْاِنَائَ مِنْ خَلْفِه) ’’اور آپ نے عائن کو حکم دیا کہ وہ معین کے پیچھے کی طرف سے اس پر پانی کے اس برتن کو انڈیل دیں۔‘‘

واقعات سے بھی نظر بد لگنے کی شہادت ملتی ہے، بلاشبہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

نظر بد لگنے کی حالت میں درج ذیل شرعی علاج استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔

۶۔           دم کرنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«لَا رُقْيَةَ اِلاَّ مِنْ عَيْنٍ اَوْ حُمَةٍ»(صحیح البخاري، الطب، باب من اکتوی او کوی غیرہ… ح:۵۷۰۵ وصحیح مسلم، الایمان، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنة بغیر حساب ولا عذاب، ح:۲۲۰)

’’ جھاڑ پھونک یادم نظر لگنے یا بخار ہی کی وجہ سے ہے۔‘‘

جبرئیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے:

«بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ، مِنْ کُلَّ شَيْئٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ»(صحیح مسلم، السلام، باب الطب والمرض والرقی، ح:۲۱۸۶)

’’اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، اور ہر انسان کے یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔‘‘

۲۔           دھونا: جیسا کہ سابقہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا (کہ وہ خود کو دھوئیں) اور پھر اس پانی کو مریض پر انڈیل دیا جائے۔

نظر لگانے والے کے بول و براز کو مذکورہ مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے پاؤں کی مٹی کو استعمال کرنا بھی بے اصل بات ہے، ثابت وہی ہے جس کا ذکر پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ اس کے اعضا اور ازار کے اندرون کو دھلایا جائے گا اور شاید اسی کی مثل اس کے رومال، ٹوپی اور قمیض وغیرہ کو بھی اندر سے دھلانا ہو۔ واللہ اعلم

نظر بد سے پیشگی حفاظت تدبیر اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ایسا کرناتوکل کے منافی بھی نہیں بلکہ یہی عین توکل ہے، کیونکہ یہ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر اعتماد کرنا اور ان اسباب کو اختیار کرنا ہے جن کو اس نے مباح قرار دیا یا جن کے استعمال کا اس نے حکم دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہ  کو ان کلمات کے ساتھ دم کیا کرتے تھے:

«أَعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»(صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب ۱۰، ح: ۳۳۷۱ وسنن ابن ماجه، الطب، باب ما عوذ به النبیﷺ وما عوذ به، ح: ۳۵۲۵ ولفظها: اعوذ بکلمات اللہ… وسنن ابي داؤد، السنة، باب فی القرآن، ح:۴۷۳۷ وجامع الترمذی، الطب، باب کیف یعوذ الصبیان، ح:۲۰۶۰)

’’میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان اور زہریلی بلا کے ڈر سے اور ہر لگنے والی نظر بد کے شر سے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  بھی اسماعیل واسحاق علیہما السلام  کو اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ویب سائٹ کی جانب سے تازہ ترین امور ایمیل پر وصول کرنے کیلیے ڈاک لسٹ میں شامل ہوں

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا انسان کونظر لگ جاتی ہے ،اگر ایسا ہے تو اس کے لیے کیاعلاج ہے ،اس کے متعلق تفصیل سے ہمیں آگاہ کریں؟

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نظر بد برحق ہے اوراس سے کسی کونقصان پہنچنا ممکن ہے ،شرعی اورحسی طور پریہ ثابت ہے۔ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نظر لگنابرحق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تواس سے نظر بد ضرور سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کامطالبہ کیاجائے توا س مطالبے کوپورا کرتے ہوئے غسل کردیاکرو ۔ ‘‘   [صحیح مسلم ،الطب : ۲۱۸۸]

نظر بد کا علاج محدث

                اس سے معلوم ہوا کہ نظر بد کا لگ جاناایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ،حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل  علیہ السلام رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کودم کرتے ہوئے درج ذیل کلمات پڑھاکرتے تھے ’’بِاسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شِرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْعَیْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ ‘‘     [صحیح مسلم، الطب: ۲۱۸۶]

                ’’اﷲ کے نام کے ساتھ آپ کودم کرتاہوں ہراس چیز سے جو آپ کوتکلیف دے اورہرانسان کی شرارت اورحسدکرنے والی آنکھ سے، اﷲ آپ کو شفا دے، میں اﷲ کے نام سے آپ کودم کرتاہوں ۔ ‘‘

                نظربد کادوطرح سے علاج ہوتاہے (۱)جسے نظربدلگی ہے اسے دم کیاجائے (۲)نظر لگانے والے کوچاہیے کہ خود کودھوئے، پھر اس پانی کومریض پرڈال دیا جائے ،نظر بد سے بچنے کے لیے پیشگی احتیاطی تدابیربھی کی جاسکتی ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت حسن اورحضرت حسین  رضی اللہ عنہما کومندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ دم کیاکرتے تھے ۔اُعِیْذُ کُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَآمَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لاَّمَّة ’’ میں تمہیں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتاہوں ،ہرشیطان اورزہریلی بلاکے ڈر سے اورہرلگنے والی نظر بد سے‘‘     [ابن ماجہ ،الطب :۳۵۲۵]

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’حضرت ابراہیم  علیہ السلام   بھی حضرت اسماعیل اورحضرت اسحاق علیہ السلام  کواسی طرح دم کیاکرتے تھے ۔‘‘   [صحیح بخاری ،احادیث الانبیا ء :۳۳۷۱]

 الغرض نظربدبرحق ہے اوراس کاعلاج ممکن ہے اوراس سے بچنے کے لیے قبل ازوقت احتیاطی تدابیر بھی کی جاسکتی ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ویب سائٹ کی جانب سے تازہ ترین امور ایمیل پر وصول کرنے کیلیے ڈاک لسٹ میں شامل ہوں

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

کیا نظر برحق ہے؟

جیسا کہ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ فلاں کو فلاں کی نظر لگ گئی، اس کی کیا حقیقت ہے؟

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((الْعَیْنُ حَقٌّ))

نظر بد کا علاج محدث

نظر (کا لگنا)حق ہے۔

(الصحیفۃالصحیحۃ تصنیف ہمام بن منبہ:131،صحیح بخاری:5740 وصحیح مسلم:2187 [5701]،مصنف عبد الرزاق 11/ 18ح 29778،مسند احمد 2/ 319 ح 8245 وسندہ صحیح ولہ طریق آخر عند ابن ماجہ:3507وسندہ صحیح ورواہ احمد 2/ 487)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((الْعَیْنُ حَقٌّ))

نظر (لگنا )حق ہے۔

(صحیح مسلم: 2188 [5702])

سیدنا حابس التمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((وَالْعَیْنُ حَقٌّ))

اور نظر برحق ہے۔

(سنن الترمذی:2061 وسندہ حسن، مسند احمد 4/ 67 حیۃ بن حابس صدوق وثقہ ابن حبان وابن خزیمۃ کما یظھرمن اتحاف المھرۃ 4/ 97 وروی عنہ یحییٰ بن ابی کثیر وھو لا یروی إلا عن ثقۃ عندہ)

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بنو جعفر (طیار رضی اللہ عنہ کے بچوں) کو نظر لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

((نَعَمْ، وَلَوْ کَانَ شَیْء ٌ یَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْہُ الْعَیْنُ))

جی ہاں! اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔

(السنن الکبریٰ 9/ 348 وسندہ صحیح، سنن الترمذی: 2059 وقال:’’حسن صحیح‘‘ وللحدیث شاھد صحیح فی صحیح مسلم 2198 [5726])

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (مجھے) حکم دیا کہ نظر کا دم کرو۔ (صحیح بخاری: 5738 وصحیح مسلم :2195 [5720۔5722])

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظرکے (علاج کے) لئے دم کی اجاز ت دی ہے۔ (صحیح مسلم: 2196[24 57])

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک لڑکی کے بارے میں فرمایا:

((اسْتَرْقُوا لَہَا، فَإِنَّ بِہَا النَّظْرَۃَ))

اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے۔

(صحیح بخاری: 5739 وصحیح مسلم: 2197 [5725])

سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے نظر لگ جانے پر دم کی اجازت دی ہے۔ (دیکھئے صحیح مسلم: 2198 [5726])

سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دم صرف نظر یا ڈسے جانے کی بنا پر ہے۔ (صحیح مسلم:220 [527])

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((لاَ رُقْیَۃَ إِلَّا مِنْ عَیْنٍ أَوْ حُمَۃٍ))

دم صرف نظر اور ڈسے ہوئے (کے علاج ) کے لئے ہے۔

(سنن ابی داود:3884 وسندہ صحیح، ورواہ البخاری:5705 موقوفاً وسندہ صحیح والمرفوع والموقوف صحیحان والحمدللہ)

سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) نے غسل کیا تو عامر بن ربیعہ (رضی اللہ عنہ)نے انھیں دیکھ لیا اور کہا: میں نے کسی کنواری کو بھی اتنی خوبصورت جلدوالی نہیں دیکھا۔سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) شدید بیمار ہو گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کومعلوم ہوا تو آپ نے فرمایا:تم اپنے بھائیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی؟ ((إِنَّ الْعَیْنَ حَقٌّ)) بے شک نظر حق ہے۔ (موطأامام مالک 2/ 938 ح 1810وسندہ صحیح وصححہ ابن حبان، الموارد:1424)

ان روایات سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے کا برحق ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے۔

سورۂ یوسف کی آیت نمبر (67) سے بھی نظر کا برحق ہونا اشارتاً ثابت ہے۔

نظر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ نظر لگانے والے کے وضو (یا غسل)کے بچے ہوئے پانی سے اسے نہلایا جائے جسے نظر لگی ہے۔ دیکھئے موطأ امام مالک (2/ 938 ح 1810وسندہ صحیح)

یا درج ذیل دعا پڑھیں:

((أَعُوْذُ بِکَلِمَا تِ اللہِ التَّآمَّۃِ، مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّا مَّۃٍ))

اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ اس کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایک شیطان اورہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔ (صحیح بخاری:3371)

اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ 36 صفحہ 21 اور فتاویٰ علمیہ ’’توحید و سنت کے مسائل‘‘ بعنوان ’’نظر کا لگ جانا برحق ہے‘‘۔

نظر بد کا علاج محدث

ہماری موبائل ایپ انسٹال کریں۔ تحقیقی مضامین اور تحقیقی کتابوں کی موجودہ وقت میں ان شاء اللہ سب سے بہترین ایپ ہے، والحمدللہ۔

Android App –or– iPhone/iPad App

IshaatulHadith Hazro © 2022

جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی  ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج  ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے‘ حوالے فٹ

عناوین

صفحہ نمبر

انتساب

7

نظر بد کا علاج محدث

حرف تمنا ن:نظر بد ‘ئتباہیوں وہلاکتوں کاسبب

10

یہ کتاب نجومیوں اورشعبدہ باز عاملوں سے بچاتی ہے

12

یہ کتاب علاج بالقرآن اورمسنون دعاؤں کے ذریعہ علاج بتاتی ہے

15

حاسدوں کی نظر بدکاشکار ہونےوالوں کےلیے راہنمائی ہے

18

ذکرالہی سےغفلت کی وجہ سے لوگوں میں بہت سی بیماریان پھیل چکی ہیں

20

ایسی بیماریاں عام ہوگئی ہیں کہ جن کاعلاج جدید میڈیکل سائنس میں نہیں

22

دم کی افادیت سےانکار لاعلمی وجہالت کی بنابر ہے

24

اس کاحل

28

آج کل لوگوں میں زیادہ تربیماریاں نظر بدلگنے کی وجہ سے واقع ہورہی ہیں

631

علاج کی کیفیت

34

فراست

34

فراست کامفہوم

35

مریض کی نوعیت کی تشخیص

36

قرآن ہربیماری کاعلاج ہے

40

بدنی بیماریوں کابذریعہ قرآن علاج کرنےکی چند مثالیں

41

نفسیاتی امراض کاذکر وعلاج

44

شخصیت سے بے خبر کردینا

44

وسوسہ اندازی

نظر بد کا علاج محدث

44

اس کاعلاج

45

غمگین رہنا

46

اہم ترین بات

48

دم کرتے ہوئے تصور پیداکیاجائے

51

شفاصرف اللہ کےدست قدرت میں ہے

53

زیادہ تربیماریوں کاسبب نظر کالگناہے

55

نظرلگنا ایک حقیقت ہے

57

ابن حجر ﷫ کاتبصرہ

59

نظرلگانے والوں کی اقسام

61

پیارے کی بھی نظر لگ جاتی ہے

62

عامربن ربیعہ ﷜ کاواقعہ

63

اس حدیث سےحاصل شدہ فوائد

65

نظرزدہ کی پہچان کیسےہوتی ہے

70

وہ امورجن کادم شدہ کو خیال رکھنا ضرور ی ہے

70

نظرزدہ پر یہ دعائیں پڑھیں

72

نظرزدہ پر یہ دعائیں بھی پڑھیں

74

اہم باتیں

75

حسداورجادوکاعلاج

77

اچھا حسد یعنی رشک رنا

77

حسد مباح

79

حسدمکروہ

79

حرام حسد

79

جادو اورنظرلگنے کاآپس میں تعلق

80

ایک بہت سے مفید بات

82

نظراوبجادوسے بچاؤ کی تدابیر

83

مصیبت کےآنے سےپہلے ہی بچانے والاعمل

83

مصیبت دو رکرنےکاعمل

84

منتخب اذکار کایومیہ نقشہ

86

نظر کےمتعلقہ سوال جواب

90

شرعی دم کےاثر انگیز ہونے کےحقیقی واقعات

109

شل ہاتھ درست ہوگیا

110

نظرسے انتڑیوں میں گرہ بن گئی

112

مریض کاپتہ ہی نہ چل رہاتھا

113

مرغیاں مرگئیں گائے پتھراگئی

114

کاروبار تباہ ،بیٹے کاایکسیڈنٹ اورخودڈاکٹروں محتاج ہوگیا

114

نظرکےلیے تہمت لگانے کےحواز کافتوی

116

شیخ کاجواب

118

خاتمہ

119

طب شرعی اورکہانت کےدرمیان تفریق

121

نظرکالگنا ثابت ہے

133

حاسد کےشرسےبچاؤ کےطریقے

137

پہلا طریقہ :استعاذہ باللہ

137

دوسراطریقہ :اللہ کاخوف اورامر بالمعروف اورنہی عن المنکر بر عمل

138

تیسراطریقہ :حساد کےحاسد رویے پر صبر رکنا

139

چوتھا طریقہ :توکل علی

140

پانچواں طریقہ دل کو حاسد کی فکر سے خالی رکھنا

141

چھٹا طریقہ :رضائے الہیٰ کی تلاش میں مشغولیت

143

ساتواں طریقہ:گناہوں سے استغفار

144

آٹھواں طریقہ : صدقہ نیک اعمال کالازمی اہتمام

146

نواں طریقہ ،آتش حسد کو احسان بجھانا

147

دسواں طریقہ:عالم اسبا ب نظر انداز کرکےخالق حقیقی کونفع وضررکامالک سمجھنا

149

خلاصہ بحث

151

99–جے ماڈل ٹاؤن،
نزد کلمہ چوک،
لاہور، 54700 پاکستان

0301-7989520

0092-423-5836016
0092-423-5837311


ڈاؤن لوڈ 2 Downloads-icon

دم  سے علاج کرنا مسنون عمل ہے ،سب سب سے بہترین  اور نفع بخش دم وہ ہے جو انسان خود آیات ودعائیں پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرے  ، وہ دم جس کے الفاظ قرآن و سنت کے مطابق ہو ں یعنی شرکیہ نہ ہوں تو وہ جائز ہے۔جن احادیث میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے اس میں جاہلیت کے الفاظ سے منع کیا گیا ہے۔ دم کر کے پانی پر پھونکنا یا کسی بیمار پر پھونکنا ہر طرح سے جائز ہے۔ دم  طب  ربا نی  ہے پس  جب مخلوق  میں سے  نیک لو گو ں  کی زبا ن  سے دم  کیا جا ئے  تو اللہ  کے حکم  سے شفا  ہو جا تی ہے۔ زیر نظر کتاب’’ کتاب وسنت  کی روشنی میں اپنے آپ پر دم کسے کریں‘‘ فضیلۃ الشیخ شخبوط حفظہ اللہ کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں روز مرہ پیش آنے والی چند اہم بیماریوں کاعلاج کتاب وسنت کی روشنی میں  ایسے بیان کیا ہے  کہ ہر کوئی انسان اس کتاب کوپڑھ کر اپنا علاج آپ کرسکتا ہے۔یہ کتاب چونکہ عربی زبان میں تھی تو فضیلۃ الشیخ پیر زادہ شفیق الرحمٰن شاہ الدراوی حفظہ اللہ…

امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہے تو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب شرک کے اسی اہم پہلو یعنی تعویذ گنڈوں  اور جائز دم کے درمیان فرق اور احادیث کی روشنی میں ان کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں تعویذ پہننے کو جائز قرار دینے والوں کے شبہات پر مشتمل ایک کتابچہ کا بھی بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
 

اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ…

اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”االتمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے ہر طرح کے تعویذات کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری، لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ…

جادو برحق ہےاور کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے جادو ،ٹونہ انسانی زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے ،جس سے انسان  کئی قسم کے روحانی و جسمانی عوارض کا شکار ہوتا ہے۔جادو کے برحق ہونے کے باوجود کتاب وسنت میں جادو ٹونے کا توڑ موجود ہے ،اس لیے جادو ٹونے کو دماغ پر سوار کرنا اور ہرمشکل ،پریشانی اور بیماری کے پیچھے جادو ٹونے کو محرک سمجھنا قطعا درست نہیں۔ایک تو جادو کرنا اور کروانا حرام ہے،لہذا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو پریشان کرنے ، کسی کو نقصان پہنچانے یا اپنی دلی  تسکین کے لیے جادو کرے یاکرائے ،پھر اگر کسی پر جادو کے اثرات ظاہر ہوں تو ایسے جادوگروں ، بے دین عاملوں اورکالے علم کے ماہرین کے پاس نہیں جانا چاہیے ،بلکہ مستند علما کے پاس جاکر ان سے مشاورت کی جائے یا جادو کے تو ڑ پر لکھی گئی کتب سے علاج کی کوشش کی جائے ،جادو ٹونے اور جنات کی شرارتوں کےتوڑ کے لیے یہ عمدہ کتاب ہے ،جس میں ہر قسم کے جادو ٹونےکا علاج کتاب وسنت کےدلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔(ف۔ر)
 

نظر بد کا علاج محدث

جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور…

انسان کو اپنی زندگی میں مختلف عارضے اور بیماریاں پیش آتی رہتی ہیں۔ شفا تو بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں لیکن حصول شفا کے لیے اپنے وسائل کی حد تک دعا، دم اور دوا وغیرہ سے علاج کی خوب کوشش کرنی چاہئے۔ جسمانی امراض دو قسموں پر مشتمل ہیں جسمانی اور روحانی۔ شریعت اسلامیہ نےنہ صرف روحانی امراض کا علاج بتایا بلکہ جسمانی امراض سے متعلق بھی رہنمائی فرمائی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا شفیق الرحمٰن فرخ دین اسلام کی انھی تعلیمات کو اختصار کے ساتھ خوبصورت پیرائے میں جمع کر دیا ہے۔ اسلوب نگارش آسان اور شستہ ہے، نیز ہر بات پورے حوالے اور دلیل کے ساتھ پیش کی ہے۔ (عین۔ م)

دم کرنے کو عربی زبان میں “رقیہ “کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،ا…

دم کرنے کو عربی زبان میں “رقیہ “کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،ا…

جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کے لیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادو گر چند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی دم سے علاج مگر کیسے ؟‘‘ عرب ممالک کے معروف باکردار روحانی عامل ا…

اس میں کوئی شک نہیں جادو، نظر اور حسداور ان سب کادوسروں پر اللہ کے حکم سےاثر انداز ہوجانا یہ عین حق اور درست بات ہے  قرآن وسنت میں اس کاثبوت موجود ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جادو کا عمل مختلف انبیاء ﷩ کے عہد میں جاری تھا ۔جیساکہ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر سیدنا صالح، موسیٰ،سلیمان﷩ کےعہد میں جادو اورجادوگروں کاتذکرہ موجود ہے اور یہ موضوع انتہائی حساس ہے ۔ آج اس بنیاد پر بے شمار لوگوں نےاپنی مسندیں سجا رکھی ہیں۔ جادو کا توڑ کرنے اور جن نکالنے کے نام پر وہ سادہ عوام کا  دین، عزت، مال سب کچھ لوٹ رہے ہیں ۔ بڑے بڑے نیکوکار لوگ بھی اس دھندے میں پڑ چکے ہیں۔جادو کرنا اورکالے علم کےذریعے  جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی  نہیں  بلکہ  ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات  سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت  کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی  اور طلسمات…

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم   اور نبیﷺ سے ثابت شدہ دم کے ذریعے علاج کرنا نہایت مفید اور مکمل شفایابی ہے ۔قرآن کریم تمام قلبی وجسمانی امراض اور دنیا وآخرت کی بیماریوں کےلیے مکمل شفا ہے ۔البتہ ہرشخص کوقرآن سےعلاج اور شفایابی کی توفیق نہیں ملتی ۔قرآن کریم کافہم رکھنے والوں کےلیے قرآن کےاندر اس کے علاج کاطریقہ ،بیماری کا سبب اور اس سے بچاؤ کی تدبیر موجود ہے ۔اللہ تعالی نے قرآن کریم کےمیں دل او رجسم کی بیماریوں کاذکر فرمایاہے ۔ اور ان کےعلاج کاطریقہ بھی بتا دیا ہے ۔اسی طرح سنت نبویﷺ سے ثابت دم کے ذریعے علاج کرنابھی مفید ترین علاج میں سے ہے۔علماء کااجماع ہے کہ دم کرنا جائز ہے اگر تین شرطوں کے ساتھ کیا جائے تو: 1۔اللہ تعالی کے کلام یا اس کےاسماء وصفات کے ذریعے۔ یا رسول اللہﷺ سے منقول کلام کے ذریعہ دم کیا جائے 2۔دم عربی زبان میں ہو ۔ اوراگر غیر عربی زبان میں ہوتو اس کا معنی معروف ہو 3۔یہ اعتقادرکھا جائے کہ دم بذاتِ خود مؤثر نہیں ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اثر انداز ہوتا ہے ۔دم محض ایک سبب ہے ۔ زیر…

اردو میں مستعمل لفظ’’تعویز‘‘ کا عربی نام’’التمیمۃ‘‘ہے عربی زبان میں ’’التمیمۃ ‘‘کے معنی اس دھاگے ،تار،یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسے اور حصے میں باندھا جائے۔ آج کل اس کا استعمال مسلم معاشرہ میں بہت زیادہ   ہو گیا ہے۔ اگر آج  امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہےتو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مروجہ تعویذاور معوذات نبویہِﷺ‘‘محترمہ ام عبد منیب کی تصنیف کردا ہے،جس میں وہ بیان کرنا چا ہتی ہیں کہ کس طرح آج کل ہمارے معاشرے تعویز پہننے یا تعویز لٹکانے کا رواج ہے، اور اکثریت…

دم کرنے کو عربی زبان میں “رقیہ “کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،ا…

جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی  ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج  ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو…

کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے عقیدہ کا خالص ہونا اور عمل کا مسنون ہونا بنیادی شرائط ہیں۔غیر مسنون اعمال سے جہاں سنت کی اہمیت کم ہوتی ہے، وہاں ان کے نتیجے میں انسان کے اعتقادات بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔جب عقیدے میں بگاڑ آتا ہے تو انسان کی ساری کی ساری محنت اور کوشش جسے وہ دین سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے، اللہ کی طرف سے اجروثواب کی بجائے عذاب وعقاب کا سبب بن جاتی ہے۔ ان غیر مسنون اعمال میں سے ایک تعویذ لکھنا ،لکھوانا اور گلے میں لٹکانا اور جسم کے بعض حصوں کے ساتھ باندھنایا گاڑیوں ،دکانوں اور گھروں میں لٹکانا ہے۔ اس عمل نے اب باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔مختلف عدد،مبہم اور غیر واضح عبارات یہاں تک کہ جنوں اور فرشتوں اور فوت شدہ ہستیوں سے امداد طلب کرنا وغیرہ ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے دیکھا دیکھی قرآنی تعویذات بھی لکھنا شروع کر دئیے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید دلوں کے امراض ،کفر وشرک اور فسق وفجور سے تزکیہ وشفاء کا بہترین ذریعہ ہے۔اس کی تلاوت اور اس پر عمل کے نتیجے میں اللہ تعالی نے برے بڑے کافروں کو مسلم اور مشرکوں کو مو…

99–جے ماڈل ٹاؤن،
نزد کلمہ چوک،
لاہور، 54700 پاکستان

0301-7989520

0092-423-5836016
0092-423-5837311

نی نی سایت

نظر بد کا علاج محدث
نظر بد کا علاج محدث

دیدگاهی بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد.